Surah Mülk, Ayaats 6-10

Chapter #1



الملك

آيات ٦ - ١٠

(جھنم کی حالت)

(٦)

 وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ

اور جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا ہے ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے


(٧)

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ

جب اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کے شور کی آواز سنیں گے اور وہ جوش مارتی ہوگی


(٨)

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ 

ایسا معلوم ہو گا کہ جوش کی وجہ سے ابھی پھٹ پڑے گی جب اس میں ایک گروہ ڈالا جائے گا تو ان سے دوزخ کے داروغہ پوچھیں گے کیاتمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا


(٩)

قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ 

وہ کہیں گے ہاں بے شک ہمارے پاس ڈرنے والا آیا تھا پر ہم نے جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ الله نے کچھ بھی نازل نہیں کیا تم خود بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو


(١٠)

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ 

اور کہیں گے کہ اگر ہم نے سنا یا سمجھا ہوتا تو ہم دوزخیوں میں نہ ہوتے

°°°°°°°°°°

:تفسير

سورہ ملك کی ان آیات میں کفار کو جھنم کی آگ کی حالت کے بارے میں تنبیہ کیا گیا ہے ۔ اگر غور کریں تو اللّٰہ تعالٰی نے عقل والوں کو بے عقل لوگوں سے الگ کیا ہے۔ کیونکہ بے عقل پیغمبروں کو اپنے سامنے دیکھنے ہوئے ، ان کے تمام معجزات کو دیکھتے ہوئے بھی اس سے منھ پھیرتے رہے۔ اور ہے کفار ہی تھے۔ لیکن کیا وہ شخص جو رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ان احکامات کو مانے جو اس کے لیے مناسب ہیں ، اور ان کو ترک کر دے جو اسے پسند نہیں ، تو کیا وہ شخص مکمل طور پر مسلمان ہو گا؟ یاد رکھیں دین کا تقاضا عقل اور صحیح و غلط میں فرق ہے۔
Click to see clearly :





°°°°°°°°°°

:عقل و خرد کی قدرو قیمت





Comments